Sunday , 23 September 2018
News

6اپریل اسلام آباد() راولپنڈی اسلام آباد یونین آفر جرنلسٹس (آر آئی یو جے ) پنجاب حکومت کو سنیئر صحافی ملک عبدالجبار کی رہائی کے لیئے 72گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ مزکورہ صحافی کے خلاف انتقامی کاروائی قبول نہیں کی جائیگی ،کسی جرم میں ملوث ہیں تو حقائق سامنے رکھے جائیں ،سیالکوٹ پولیس کی جانب سے چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔جمعہ کو نیشنل پریس کلب کے باہرکیپٹل ٹی وی کے سنیئر رپورٹر اور آر آئی یو جے کے ممبر گورننگ باڈی ملک عبدالجبار کی خلاف قانون گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا ،احتجاجی مظائرے میں پولیس گردی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی ،احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں صدر آر آئی یو جے مبارک زیب خان نے کہاکہ پنجاب حکومت مسلسل گڈ گورنس کا دعویٰ کرتی ہے مگر پنجاب پولیس کے ہاتھوں متعدد صحافیوں زک پہنچی ،ذیشان بٹ کا قتل ہو یا کیپٹل ٹی وی کے رپورٹر ملک عبدالجبار کی خلاف قانون گرفتاری ہو ،انہوں نے سوال کیا کہ پولیس نے کس قانون اور ضابطے کے تحت اس کے گھر میں بغیر سرچ وارنٹ کے چھاپہ مارا جب وہ کسی ایف آئی آر میں نامزد نہیں تو پھر گرفتاری کیوں ہوئی ؟کیا انہیں کسی خبر کی پاداش میں نشانہ تو نہیں بنایا گیا ؟انہوں نے کہا کہ اگر72گھنٹوں تک ملک عبدالجبار کی رہائی عمل میں نہ لائی گئی تو 9اپریل کے دھرنے میں پنجاب پولیس کی پولیس گردی کے خلاف شدید احتجاج ہو گا ،سیکرٹری نیشنل پریس کلب ،شکیل انجم نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف ایک تسلسل کے ساتھ کاروائیاں ہو رہی ہیں ہمیں متحد ہو کے ان کا مقابلہ کرنا ہو گا ممبر ایف ای سی (پی ایف یو جے) عامر سجاد سید نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو شدید احتجاج کا سامنا کرنا ہو گا ،فنانس سیکرٹری آر آئی یو جے اصغر چوہدری نے کہا کہ ہم مسلسل بعض عناصر کے نشانے پر ہیں ،پنجاب پولیس نے روایتی انداز اپنایا اور دہشت گردوں کی طرح ملک عبدا لجبار کو عدالت میں پیش کیا ہم اس کی شدید مزمت کرتے ہیں مزکورہ صحافی کے خلاف اگر کوئی شکایت تھی تو پولیس پریس کلبز اور یو جیز سے رابطہ کرتی انہوں نے کہا کہ وزارت انفارمیشن اور پی آئی ڈی کا کردار بھی غیر تسلی بخش تھا ،احتجاجی مظائرے سے ربجا کے صدر سردار شوکت اور دیگر سنیئر صحافیوں نے بھی خطاب کیا ۔ جاری کردہ علی رضا علوی سیکرٹری (آر آئی یو جے )

shared on wplocker.com