Sunday , 23 September 2018
News

دو ماہ کی مسلسل محنت کے بعد سینئر صحافی دہشت گردی کی کوریج کے متعلق پاکستان فیڈرل یو نین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے )کے مجوزہ ضابطہ اخلاق پر متفق ہو گئے.

دو ماہ کی مسلسل محنت کے بعد سینئر صحافی دہشت گردی کی کوریج کے متعلق پاکستان فیڈرل یو نین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے )کے مجوزہ ضابطہ اخلاق پر متفق ہو گئے. . . . . .

دو ماہ کی مسلسل محنت کے بعد سینئر صحافی دہشت گردی کی کوریج کے متعلق پاکستان فیڈرل یو نین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے )کے مجوزہ ضابطہ اخلاق پر متفق ہو گئے۔ ضابطہ اخلاق میں تجویز کیا گیا ہے کہ تمام میڈیا ہائوسز سنسنی خیز کوریج سے اجتناب کے لئے اپنے ایڈیٹوریل بورڈ کو موثر بنائیں۔ اجلاس کی صدارت پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کی جب کہ سیکرٹری اطلاعات محمد اعظم مہمان خصوصی تھے۔ اجلاس میں دیگر سینئر صحافیوں کے علاوہ سیکرٹری پی ایف یو جے خورشید عباسی، معروف اینکر حامد میر، رانا جواد ، اویس توحید، منیزے جہانگیر ، عدنان رحمت ، اقبال خٹک ، ناصر زیدی ، عامر الیاس رانا، محسن رضا، جاوید صدیق، صدیق ساجد ، ریاض خان، قربان ستی، عصمت اللہ نیازی ، مطیع اللہ جان، خالد عظیم ، رائو خالد ، طاہر عمران میاں ،بشری تسکین،محمود جان بابر، طارق چوہدری ،وحید حسین، علی رضا علوی اور بلال ڈار شریک تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات و نشریات محمد اعظم نے کہا کہ پی ایف یو جے کی طرف سے ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لئے ضابطہ اخلاق کی تیاری مستحسن اقدام ہے۔ وزارت اطلاعات صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی پیشہ ورانہ تربیت کے لئے پی ایف یو جے سے مکمل تعاون کرے گی۔ اس موقع پر پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ ہم کبھی بھی میڈیا کی مادرپدر آزادی کے حامی نہیں رہے۔ ملک و قوم کا وقار اور عوام تک حقائق کو موثر انداز میں پہنچانا ہمیشہ ہماری ترجیح رہی ہے۔ حامد میر نے کہا کہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پی ایف یو جے کا ضابطہ اخلاق دہشت گردی کے متعلق کوریج کے لئے بہترین رہنمائی فراہم کرے گا۔رانا جواد نے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ہمار ا ضابطہ اخلاق زمینی حقائق کے مطابق ہونا چاہئے اور دہشت گردی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کا تحفظ یقینی بنانا چاہئے۔ اویس توحید نے کہا موجودہ دور میں میڈیا پر سنسنی خیز ی سے بچتے ہوئے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ ضابطہ اخلاق اس ضمن میں عامل صحافیوں کو بہترین رہنمائی فراہم کرے گا۔ ضابطہ اخلاق میں تجویز کیا گیا کہ دہشت گردی سے متعلق کوریج کی کسی بھی قسم کی شکایات کے ازالے کے لئے میڈیا کمیشن تشکیل دیاجائے جس میں وکلاء ، سول سوسائٹی اور معاشرے کے دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کو نمائندگی دی جائے۔ یہ بھی تجویز کیا گیا کہ فیلڈ میں کام کرنے والے میڈیا ورکرز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی تربیت اور جدید سامان فراہم کیا جائے۔ ضابطہ اخلاق میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ کالعدم تنظیموں کے بیانات اور دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرنے کے واقعات تحقیق کے بعد نشر کئے جائیں۔ یہ بھی تجویز کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ کے فوری بعد ایس پی سطح کا افسر بطور ترجمان تعینات کیا جائے جو اموات ، زخمیوں کی تعداد اور دیگر تفصیلا ت میڈیا کو فراہم کرنے کا پابند ہو۔ اس موقع پر نیشنل پریس کلب ، اسلام آباد میں نوجوان صحافیوں کے لئے ایک تربیتی ورکشاپ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ جس میں انہیں دہشت گردی کی کوریج کے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ ورکشاپ میں تربیت دینے والوں میں ڈاکٹر محمد اشرف طاہر ، احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر منظر زیدی شامل تھے

shared on wplocker.com